اردو مرثیے کی بنیاد اگرچہ عرب کی اسلامی تاریخ اور سانحہ کربلا کے دلدوز واقعات پر استوار ہے، لیکن اس صنفِ سخن کو جو عروج اور کمال ہندوستان، بالخصوص لکھنؤ کی سرزمین پر حاصل ہوا، وہ عرب ممالک یا ایران میں بھی دیکھنے کو نہیں ملتا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ وہ مشترکہ ہندوستانی تہذیب تھی جس نے صوفیوں، سنتوں اور بھگتوں کے کلام سے گزر کر اودھ کے معاشرے میں ایک نیا اور دلکش قالب اختیار کر لیا تھا۔ اس تہذیب نے اردو زبان اور اس کی اصناف کو اس حد تک متاثر کیا کہ مرثیہ بھی اس کے سحر سے بچ نہ سکا۔
ادبی حلقوں میں یہ بحث طویل عرصے سے جاری ہے کہ مرثیے کے کرداروں کا تعلق چونکہ عرب سے ہے، اس لیے ان کی پیشکش میں ہندوستانی معاشرت، طرزِ بیان اور بیگمات کے اندازِ تخاطب کی شمولیت کس حد تک درست ہے۔ بعض ناقدین اسے ایک خامی قرار دیتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ اس سے کردار نگاری میں تضاد اور تصنع پیدا ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک میر انیس اور دیگر مرثیہ نگاروں کو چاہیے تھا کہ وہ ان مقدس ہستیوں کو خالص عربی ماحول ہی میں پیش کرتے۔
تاہم، ممتاز نقاد گوپی چند نارنگ اس نظریے کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ شاعری اور تاریخ میں بنیادی فرق ہوتا ہے۔ تاریخ حقائق کا ایک بے روح ڈھانچہ فراہم کرتی ہے، جبکہ شاعری اس میں جذبات، تخیل اور زندگی کی حرارت بھرتی ہے۔ اگر میر انیس ان کرداروں کو خالص عربی لب و لہجہ اور رہن سہن تک محدود رکھتے، تو شاید عقیدت تو برقرار رہتی، لیکن وہ 'اپنائیت' اور قربت کا احساس پیدا نہ ہوتا جو تیرہ سو سال کے زمانی و مکانی فاصلے کو مٹا دیتا ہے۔
تخلیقی عمل کا یہ تقاضا ہے کہ جب کوئی شاعر کسی تاریخی واقعے کو شعری پیکر میں ڈھالتا ہے، تو وہ لاشعوری طور پر اپنے گرد و پیش کی عمرانیاتی سچائیوں اور معاشرتی رویوں کو اس میں شامل کر لیتا ہے۔ میدانِ کربلا میں جب امام حسین علیہ السلام رخصت ہونے لگتے ہیں، تو خیمے کا منظر اور خواتین کے جذبات بالکل وہی ہوتے ہیں جو ایک ہندوستانی گھرانے کی خواتین کے ہو سکتے ہیں۔ اس موقع پر زینب کی دعائیں خالص ہندوستانی معاشرت کی عکاسی کرتی ہیں:
خیمے میں جا کے شہ نے یہ دیکھا حرم کا حال
چہرے تو فق ہیں اور کھلے ہیں سروں کے بال
زینب کی یہ دعا ہے کہ اے ربِ ذوالجلال
بچ جائے اس فساد سے خیر النسا کا لال
بانوئے نیک نام کی کھیتی ہری رہے
صندل سے مانگ بچوں سے گودی بھری رہے
ان اشعار میں 'صندل سے مانگ بھرنا'، 'کھیتی ہری رہنا' اور 'گودی بھری رہنا' جیسی دعائیں عرب کی نہیں بلکہ ہندوستان کی ثقافتی پہچان ہیں۔ اسی طرح 'لال' کا تصور بھی ہندوستانی ہے۔ شاعر نے ان الفاظ کے ذریعے ایک ایسی جمالیاتی اور جذباتی فضا خلق کی ہے جو قاری یا سامع کے دل کی گہرائیوں میں اتر جاتی ہے۔
دراصل، انیس کا ذہن انیسویں صدی کے لکھنوی معاشرے کا ذہن تھا۔ انہوں نے وہ کیا جو دنیا کا کوئی بھی عظیم فنکار کرتا ہے؛ یعنی خارجی حقیقت کے مقابلے میں ایک لسانی اور جذباتی حقیقت خلق کرنا۔ انہوں نے تاریخی سچائی کو اودھ کی معاشرت کا لباس پہنا کر ایک ایسی نئی تخلیقی حقیقت کو جنم دیا جو بیک وقت ساتویں صدی کے عزم و استقامت اور انیسویں صدی کے لکھنوی معاشرے کی سچائیوں کی ترجمان ہے۔ یہی وہ کمال ہے جس نے اردو مرثیے کو لافانی بنا دیا۔
