ادبی تنقید میں عموماً یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک زبان دوسری زبان پر کیا اثرات مرتب کر رہی ہے۔ عام حالات میں ایک زبان کے کسی دوسری زبان پر مرتسم ہونے والے اثرات کا جائزہ لینا خاصا زرخیز اور خیال انگیز ثابت ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اردو ادب پر انگریزی ادب کے اثرات بہت نمایاں ہیں، کیونکہ انگریزی ادب کا مزاج اردو سے بالکل مختلف تھا اور اس نے ایک مدمقابل کی حیثیت سے اردو پر براہ راست اپنے اثرات ثبت کیے۔ انگریزی نے اردو کو فکر و احساس اور ترسیل کے وہ اسالیب دیے جن کا اردو میں فقدان تھا۔ لیکن جب ہم اردو اور پنجابی ادب کے باہمی ربط کی بات کرتے ہیں، تو یہاں 'تاثیر و تاثر' (Influence) کا میلان تلاش کرنا محض تضییعِ اوقات ہے۔
اردو اور پنجابی دو مختلف تہذیبوں کی زبانیں نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک ہی گھر میں نشوونما پانے والی زبانیں ہیں۔ اس لیے پنجابی ادب نے براہ راست اردو ادب پر، یا اردو ادب نے براہ راست پنجابی ادب پر کوئی ایسے نمایاں اثرات مرتسم نہیں کیے جنہیں ہم حیرت انگیز قرار دے سکیں۔ اگر اردو میں ہیر رانجھا، سوہنی مہیوال یا مرزا صاحباں کے حوالے ملتے ہیں، یا بابا فرید، بلہے شاہ اور وارث شاہ کے اقوال اردو میں نگینوں کی طرح چمکتے ہیں، تو یہ کوئی بیرونی اثر نہیں ہے۔ جب کسی ایک ہی خطے کے رہنے والے بیک وقت دو زبانوں کو ذریعہ اظہار بنا رہے ہوں، تو لین دین کی فضا کا قائم ہو جانا ایک بالکل قدرتی بات ہے۔
دراصل ہوا یہ ہے کہ اہلِ پنجاب نے اردو کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہے۔ جب پنجاب کا کوئی ادیب اردو میں لکھتا ہے، تو وہ اپنی جنم بھومی کی ساری بو باس، مزاج اور لہجے کو اردو میں منتقل کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اس سے دونوں زبانوں کے ادب میں ایک عجیب سی یک رنگی اور ہم آہنگی پیدا ہو گئی ہے، جسے دیکھ کر ایک عام قاری اس مغالطے میں پڑ جاتا ہے کہ شاید ان دونوں زبانوں نے ایک دوسرے کو متاثر کیا ہے۔
حقیقت اس سے یکسر مختلف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کے 'جوہر' (Essence) نے ایک طرف تو خود کو پنجابی زبان میں اور دوسری طرف اردو زبان میں منعکس کیا ہے۔ ان دونوں زبانوں کے ادب میں اگر کوئی فرق ہے تو وہ جوہر کا نہیں، بلکہ صرف ان پیمانوں کا ہے جن میں اس جوہر کو پیش کیا گیا ہے۔ پنجابی زبان کے مخصوص لسانی ڈھانچے نے پنجاب کی نفسیات (Psyche) کے اس حصے کی ترسیل کی ہے جو جذباتی خروش سے عبارت ہے اور اپنے اظہار کے لیے گیت، ماہیا، کافی یا دوہے کے لوچ دار اور رسیلے پیکر کا طالب ہے۔
اس کے برعکس، اردو زبان کے متنوع اسالیب نے پنجاب کی نفسیات کی ان لاتعداد پرتوں کی عکاسی کی ہے جو فکری اور احساسی لطافتوں اور نزاکتوں کی امین ہیں اور اپنے اظہار کے لیے نازک تر پیمانوں کی متقاضی ہیں۔ گویا پنجاب کی روح ایک ہی ہے، مگر اس نے اپنے لوک اور جذباتی پہلوؤں کے لیے پنجابی کا لباس پہنا، اور اپنی فکری اور فلسفیانہ اڑان کے لیے اردو کے وسیع تر آسمان کا انتخاب کیا۔ یہ سب کچھ اتنے فطری انداز میں ہوا ہے کہ یہاں اثر اندازی کے بجائے 'یک جان دو قالب' کی کیفیت نظر آتی ہے۔
