Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Saleem Kausar's Photo'

سلیم کوثر

1947 | کراچی, پاکستان

اہم پاکستانی شاعر ، اپنی غزل ’ میں خیال ہوں کسی اور کا ‘ کے لئے مشہور

اہم پاکستانی شاعر ، اپنی غزل ’ میں خیال ہوں کسی اور کا ‘ کے لئے مشہور

سلیم کوثر کی ٹاپ ٢٠ شاعری

قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں

کتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیں

کہانی لکھتے ہوئے داستاں سناتے ہوئے

وہ سو گیا ہے مجھے خواب سے جگاتے ہوئے

اور اس سے پہلے کہ ثابت ہو جرم خاموشی

ہم اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے

سر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے

ہم نے تو خود سے انتقام لیا

تم نے کیا سوچ کر محبت کی

آئینہ خود بھی سنورتا تھا ہماری خاطر

ہم ترے واسطے تیار ہوا کرتے تھے

مجھے سنبھالنے میں اتنی احتیاط نہ کر

بکھر نہ جاؤں کہیں میں تری حفاظت میں

پکارتے ہیں انہیں ساحلوں کے سناٹے

جو لوگ ڈوب گئے کشتیاں بناتے ہوئے

تم نے سچ بولنے کی جرأت کی

یہ بھی توہین ہے عدالت کی

بہت دنوں میں کہیں ہجر ماہ و سال کے بعد

رکا ہوا ہے زمانہ ترے وصال کے بعد

اے مرے چارہ گر ترے بس میں نہیں معاملہ

صورت حال کے لیے واقف حال چاہئے

خاموش سہی مرکزی کردار تو ہم تھے

پھر کیسے بھلا تیری کہانی سے نکلتے

تم تو کہتے تھے کہ سب قیدی رہائی پا گئے

پھر پس دیوار زنداں رات بھر روتا ہے کون

مری روشنی ترے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر

تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے

یاد کا زخم بھی ہم تجھ کو نہیں دے سکتے

دیکھ کس عالم غربت میں ملے ہیں تجھ سے

زوروں پہ سلیمؔ اب کے ہے نفرت کا بہاؤ

جو بچ کے نکل آئے گا تیراک وہی ہے

جدائی بھی نہ ہوتی زندگی بھی سہل ہو جاتی

جو ہم اک دوسرے سے مسئلہ تبدیل کر لیتے

سائے گلی میں جاگتے رہتے ہیں رات بھر

تنہائیوں کی اوٹ سے جھانکا نہ کر مجھے

اہل خرد کو آج بھی اپنے یقین کے لیے

جس کی مثال ہی نہیں اس کی مثال چاہئے

یہ آگ لگنے سے پہلے کی بازگشت ہے جو

بجھانے والوں کو اب تک دھواں بلاتا ہے

کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے

جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے

Recitation

بولیے