Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Amjad Islam Amjad's Photo'

امجد اسلام امجد

1944 - 2023 | لاہور, پاکستان

معروف شاعر اور پاکستانی ٹی وی سیریلوں کے لئے مشہور

معروف شاعر اور پاکستانی ٹی وی سیریلوں کے لئے مشہور

امجد اسلام امجد کی ٹاپ ٢٠ شاعری

جس طرف تو ہے ادھر ہوں گی سبھی کی نظریں

عید کے چاند کا دیدار بہانہ ہی سہی

بڑے سکون سے ڈوبے تھے ڈوبنے والے

جو ساحلوں پہ کھڑے تھے بہت پکارے بھی

چہرے پہ مرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن

کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن

لکھا تھا ایک تختی پر کوئی بھی پھول مت توڑے مگر آندھی تو ان پڑھ تھی

سو جب وہ باغ سے گزری کوئی اکھڑا کوئی ٹوٹا خزاں کے آخری دن تھے

جیسے بارش سے دھلے صحن گلستاں امجدؔ

آنکھ جب خشک ہوئی اور بھی چہرا چمکا

کیا ہو جاتا ہے ان ہنستے جیتے جاگتے لوگوں کو

بیٹھے بیٹھے کیوں یہ خود سے باتیں کرنے لگتے ہیں

کس قدر یادیں ابھر آئی ہیں تیرے نام سے

ایک پتھر پھینکنے سے پڑ گئے کتنے بھنور

ہر سمندر کا ایک ساحل ہے

ہجر کی رات کا کنارا نہیں

بے ثمر پیڑوں کو چومیں گے صبا کے سبز لب

دیکھ لینا یہ خزاں بے دست و پا رہ جائے گی

گزریں جو میرے گھر سے تو رک جائیں ستارے

اس طرح مری رات کو چمکاؤ کسی دن

ایک نظر دیکھا تھا اس نے آگے یاد نہیں

کھل جاتی ہے دریا کی اوقات سمندر میں

حادثہ بھی ہونے میں وقت کچھ تو لیتا ہے

بخت کے بگڑنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے

کمال حسن ہے حسن کمال سے باہر

ازل کا رنگ ہے جیسے مثال سے باہر

کچھ ایسی بے یقینی تھی فضا میں

جو اپنے تھے وہ بیگانے لگے ہیں

یوں تو ہر رات چمکتے ہیں ستارے لیکن

وصل کی رات بہت صبح کا تارا چمکا

فضا میں تیرتے رہتے ہیں نقش سے کیا کیا

مجھے تلاش نہ کرتی ہوں یہ بلائیں کہیں

آنکھ بھی اپنی سراب آلود ہے

اور اس دریا میں پانی بھی نہیں

یہ جو سائے سے بھٹکتے ہیں ہمارے ارد گرد

چھو کے ان کو دیکھیے تو واہمہ کوئی نہیں

نہ اس کا انت ہے کوئی نہ استعارہ ہے

یہ داستان ہے ہجر و وصال سے باہر

درد کا رستہ ہے یا ہے ساعت روز حساب

سیکڑوں لوگوں کو روکا ایک بھی ٹھہرا نہیں

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے