Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آشوب

MORE BYشہزاد احمد

    ابھی رات کے ملگجے جسم پر چاندنی کی قبا رنگ دکھلا رہی ہے

    ابھی سونے والوں کے چلتے ہوئے سانس کی نرم و نازک صدا آ رہی ہے

    ابھی تک ہوا کھلنے والے شگوفوں کے پاؤں سے چمٹی نہیں ہے

    ابھی آسماں آفتاب درخشاں کو پردے سے باہر نہیں لا سکا ہے

    مگر ایک ٹوٹا ہوا زرد پتا

    پرانے درختوں کے سوکھے ہوئے سلوٹوں سے بھرے جسم سے

    یوں ہم آغوش ہے جیسے آتا ہوا وقت اس کے لیے حادثہ ہو

    شاخ سے ٹوٹنا حادثہ تھا

    مگر ان پرانے درختوں کے سوکھے ہوئے جسم سے دوریوں کا تصور

    ہر اک شے سے بڑھ کر الم ناک ہے

    پرانے درخت اک زمانے سے مٹی میں پاؤں پسارے ہوئے ہیں

    انہوں نے یہاں آتے جاتے ہزاروں ہی موسم گزارے ہوئے ہیں

    ہزاروں ہی دن اور ہزاروں ہی راتیں

    انہیں ایک جھونکے کی مانند محسوس ہوتی ہیں

    جو اپنی خوشبو سے مدہوش ہو

    انھوں نے کئی زرد پتوں کا انجام دیکھا ہے

    اور منتظر ہیں کہ یہ آخری زرد پتا پرانے درختوں کا انجام دیکھے

    وہ کہتے ہیں

    اب کوئی آندھی اٹھے

    اور ہمیں زرد پتے کی مانند مٹی کے آغوش سے کھینچ لے

    اب ان کے قدم لڑکھڑائے ہوئے ہیں

    دلوں پر اندھیرے سے چھائے ہوئے ہیں

    ہر اک آتے لمحے کے بارے میں وہ سوچتے ہیں

    یہی آخری ہے

    مگر صبح تک کون جانے

    کہ سورج کی پہلی شعاعیں کسے کون سے رنگ میں دیکھ پائیں

    پرانے درختوں سے چمٹے ہوئے زرد پتے کہاں خاک اڑائیں

    خدا جانے وہ لمحہ کب آئے جو آخری ہو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے