آشوب
ابھی رات کے ملگجے جسم پر چاندنی کی قبا رنگ دکھلا رہی ہے
ابھی سونے والوں کے چلتے ہوئے سانس کی نرم و نازک صدا آ رہی ہے
ابھی تک ہوا کھلنے والے شگوفوں کے پاؤں سے چمٹی نہیں ہے
ابھی آسماں آفتاب درخشاں کو پردے سے باہر نہیں لا سکا ہے
مگر ایک ٹوٹا ہوا زرد پتا
پرانے درختوں کے سوکھے ہوئے سلوٹوں سے بھرے جسم سے
یوں ہم آغوش ہے جیسے آتا ہوا وقت اس کے لیے حادثہ ہو
شاخ سے ٹوٹنا حادثہ تھا
مگر ان پرانے درختوں کے سوکھے ہوئے جسم سے دوریوں کا تصور
ہر اک شے سے بڑھ کر الم ناک ہے
پرانے درخت اک زمانے سے مٹی میں پاؤں پسارے ہوئے ہیں
انہوں نے یہاں آتے جاتے ہزاروں ہی موسم گزارے ہوئے ہیں
ہزاروں ہی دن اور ہزاروں ہی راتیں
انہیں ایک جھونکے کی مانند محسوس ہوتی ہیں
جو اپنی خوشبو سے مدہوش ہو
انھوں نے کئی زرد پتوں کا انجام دیکھا ہے
اور منتظر ہیں کہ یہ آخری زرد پتا پرانے درختوں کا انجام دیکھے
وہ کہتے ہیں
اب کوئی آندھی اٹھے
اور ہمیں زرد پتے کی مانند مٹی کے آغوش سے کھینچ لے
اب ان کے قدم لڑکھڑائے ہوئے ہیں
دلوں پر اندھیرے سے چھائے ہوئے ہیں
ہر اک آتے لمحے کے بارے میں وہ سوچتے ہیں
یہی آخری ہے
مگر صبح تک کون جانے
کہ سورج کی پہلی شعاعیں کسے کون سے رنگ میں دیکھ پائیں
پرانے درختوں سے چمٹے ہوئے زرد پتے کہاں خاک اڑائیں
خدا جانے وہ لمحہ کب آئے جو آخری ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.