Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یو ٹو

MORE BYمحمد افتخار شفیع

    یادوں کی الماری میں تو

    ایک اک ہینگر بوجھ بنا ہے

    دیر سے گھر کو لوٹنے والے

    رفتہ رفتہ لوٹ رہے ہیں

    سرما کی یخ بستہ راتیں

    قندھاری موسم کی آمد کے بارے میں

    سوچ رہی ہیں

    اور ادھر میں اپنے گھر کے اک کمرے میں

    تنہا اور ملول سا ہو کر

    آنکھ مچولی کھیلنے والے

    بجھتے آتش دان کے پاس

    بیٹھا ہوا یہ سوچ رہا ہوں

    وہ بھی کیسا لمحہ تھا جب

    ایسی اک ان ہونی سی شب

    تھکی تھکی سرگوشی کے انداز میں اس کا

    سرد ہوا کے ہاتھ مجھے پیغام ملا تھا

    تم تو بڑے بروٹس نکلے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے