Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دسمبر

یاور علی

دسمبر

یاور علی

MORE BYیاور علی

    نیا سال آنے کی ہے تو خوشی پر

    دسمبر کے جانے کا غم بھی بہت ہے

    وہ منظر حسیں آنکھ میں تیرتے ہیں

    درختوں نے پھولوں کے زیور تھے پہنے

    گلابوں پہ جوبن کی سرخی چڑھی تھی

    زمینوں پہ شبنم کے موتی تھے بکھرے

    ہواؤں سے کہرہ گلے مل رہا تھا

    پہاڑوں کی گودی سے نیچے اتر کر

    زمینوں پہ دریا سفر کر رہا تھا

    کسی مست مولا گلو کار جیسا

    ترنم میں جھرنا غزل پڑھ رہا تھا

    پرندوں کا بستان مہکا رہے تھے

    گل تر خیابان مہکا رہے تھے

    کڑاکے کی سردی میں بھی رت جواں تھی

    خیالوں کو ارمان مہکا رہے تھے

    جدھر بھی اٹھا کر نظر دیکھتا تھا

    محبت سے لبریز تھے سارے منظر

    زمانے کی ہر شے حسیں لگ رہی تھی

    گل عشق جب میرے دل میں کھلا تھا

    دسمبر کے جانے کا یوں ہی نہ غم ہے

    وہ ماہ دسمبر میں مجھ کو ملا تھا

    نیا سال آنے کی ہے تو خوشی پر

    دسمبر کے جانے کا غم بھی بہت ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے