دسمبر
نیا سال آنے کی ہے تو خوشی پر
دسمبر کے جانے کا غم بھی بہت ہے
وہ منظر حسیں آنکھ میں تیرتے ہیں
درختوں نے پھولوں کے زیور تھے پہنے
گلابوں پہ جوبن کی سرخی چڑھی تھی
زمینوں پہ شبنم کے موتی تھے بکھرے
ہواؤں سے کہرہ گلے مل رہا تھا
پہاڑوں کی گودی سے نیچے اتر کر
زمینوں پہ دریا سفر کر رہا تھا
کسی مست مولا گلو کار جیسا
ترنم میں جھرنا غزل پڑھ رہا تھا
پرندوں کا بستان مہکا رہے تھے
گل تر خیابان مہکا رہے تھے
کڑاکے کی سردی میں بھی رت جواں تھی
خیالوں کو ارمان مہکا رہے تھے
جدھر بھی اٹھا کر نظر دیکھتا تھا
محبت سے لبریز تھے سارے منظر
زمانے کی ہر شے حسیں لگ رہی تھی
گل عشق جب میرے دل میں کھلا تھا
دسمبر کے جانے کا یوں ہی نہ غم ہے
وہ ماہ دسمبر میں مجھ کو ملا تھا
نیا سال آنے کی ہے تو خوشی پر
دسمبر کے جانے کا غم بھی بہت ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.