شاعر کا اعلان جنگ
دلچسپ معلومات
چین کے جارحانہ اقدام کے خلاف
دشمن کے ہر اک وار سے ہم بڑھ کے لڑیں گے
وقت آنے دو اغیار سے ہم بڑھ کے لڑیں گے
یا امن کا ہر ملک میں لہرائیں گے پرچم
یا جنگ کی تلوار سے ہم بڑھ کے لڑیں گے
مٹ جائیں گے ناموس وطن مٹنے نہ دیں گے
جیسے بھی ہو اغیار سے ہم بڑھ کے لڑیں گے
ہم بیروں کی اولاد ہیں فولاد ہیں فولاد
ایٹم کے بھی سوفار سے ہم بڑھ کے لڑیں گے
جو دوست بنے اور کرے کام ستم کا
ایسے بھی ستمگار سے ہم بڑھ کے لڑیں گے
ہم کون ہیں ہم کیا ہیں بتانے کی ضرورت
ہر قوت پیکار سے ہم بڑھ کے لڑیں گے
اونچا ہے ہمالہ سے بھی کچھ عزم ہمارا
اس پار بھی اس پار سے ہم بڑھ کے لڑیں گے
جو کچھ بھی ہو انجام مگر ملک وفا سے
ہر سرکش و غدار سے ہم بڑھ کے لڑیں گے
باتیں مہ و خورشید کی ہیں دل میں اندھیرا
باطن کے سیہ کار سے ہم بڑھ کے لڑیں گے
یہ فتنۂ چیں کیا ہے یہ سرحد پہ جھڑپ کیا
اب چین کی دیوار سے ہم بڑھ کے لڑیں گے
ہے قافلہ سالار وطن اپنا جواہرؔ
ہر پنجۂ خونخوار سے ہم بڑھ کے لڑیں گے
خون دل ہندیؔ ہے ہر اک ذرہ وطن کا
اس خوں کے طلبگار سے ہم بڑھ کے لڑیں گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.