یہ مرا شہر نہیں
یہ مرا شہر نہیں
گھنٹیوں کی وہ صدائیں نہ اذاں کی آواز
کوئی نغمہ نہ کوئی ساز
وہ پرندے ہیں نہ اب ان کی وہ چہکاریں ہیں
راستہ روکتی یہ کون سی دیواریں ہیں
سڑکیں ویران ہوا بھی خاموش
بھوکے کتوں کی صدا بھی خاموش
گلیاں سنسان ہیں بازار ہیں بند
یعنی سب گھر میں خریدار ہیں بند
دودھ کی فکر میں ماں باپ پریشان
بلکتے بچے
کون بھوکا ہے مدد کی ہے ضرورت کس کو
کون سوچے کہ رسد کی ہے ضرورت کس کو
کوئی آہٹ نہ صدا
سائرن خوف زدہ کرتا ہوا
گھر میں جو کچھ بھی میسر ہے وہی کھانا ہے
ٹیلی ویژن پہ کوئی فلم خبر سیریئل
دیکھتے دیکھتے سو جانا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.