Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

احتراز

فہمیدہ ریاض

احتراز

فہمیدہ ریاض

MORE BYفہمیدہ ریاض

    آج کی رات کے دامن میں ہیں کیا کیا جادو

    خواب آلود فضاؤں میں یہ سوئے ہوئے گیت

    آپ کے قرب کے احساس کی یہ نرم سی آنچ

    کسی انجان سی خواہش سے سلگتا ہوا چاند

    کچھ جھجکتی ہوئی شرمائی ہوئی سرد ہوا

    یہ مری سوچ کا الجھا ہوا ریشم ڈورا

    نشے میں جھومتی شب کی طلب انگیز مہک

    دھڑکنوں کو مری بیدار کئے دیتی ہے

    دھڑکنیں جن کا نہ حاصل ہے نہ مفہوم کوئی

    اجنبی آپ مجھے آنکھ جھپک لینے دیں

    رات کی سانس میں جذبات گھلے جاتے ہیں

    میری چوری کو مگر گھور رہی ہیں ہر سمت

    دور تک روشنیاں رات کی باہوں میں اسیر

    شہر کی سخت و سیہ سوچتی گونگی سڑکیں

    ایسے جامد ہیں کہ جیسے مری قسمت کی لکیر

    میں نے مانا کہ مجھے آپ کچھ اپنے سے لگے

    آپ کے گیتوں میں اپنی مجھے آواز آئی

    آپ کے حسن تخیل میں کھلے ہیں وہ پھول

    جن کی خوشبو سے معطر ہے مری تنہائی

    پھر بھی سوچیں تو مجھے آپ سے نسبت کیا ہے

    کچے دھاگے کا یہ بے نام سا اک رشتہ ہے

    یہ فسوں کار و حسیں رات فقط دھوکا ہے

    صبح اک ایسی حقیقت ہے نہیں جس سے گریز

    کون اس رات کے دامن کو جکڑ سکتا ہے

    لاکھ چاہیں بھی پہ یہ رات گزر جائے گی

    اور پھر میری تمنا کی یہ نورستہ کلی

    اس حقیقت کی کڑی دھوپ نہ سہ پائے گی

    جھلملاتے ہیں جو احساس میں ننھے جگنو

    وقت کی آنکھ میں رہ جائیں گے بن کر آنسو

    رات کی رات ہیں یہ رات کے سارے جادو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے