سماجی تنہائی
ایک چھوٹی سی ڈبیا میں ہم نے کھلونوں کی دنیا بسائی
وہ دنیا کہ جس میں
محافل کی رونق
سرابوں کے منظر
روابط کے جھولے
دکھاوے کی خوشیاں تھیں ارمان تھے
الغرض دل کے بہلانے کو سارے سامان تھے
اپنی تخلیق کردہ یہ دنیا ہمیں اتنی دلکش لگی
اس میں جانے کا ہم نے ارادہ کیا
اور خود کو بہت مختصر کر لیا
اپنی خم دار گردن لیے
ہم سرابوں میں داخل ہوئے
تو کھلونوں کے جھرمٹ میں گم ہو گئے
آج رشتوں کے ڈھانچے
گھروں میں پڑے منتظر ہیں ہمارے
کہ ہم لوٹ آئیں
تو جذبوں کی حدت سے ان کو نئی زندگی مل سکے
شہر سونے پڑے ہیں
فقط سائے چل پھر رہے ہیں
وہ سائے جو اک دوسرے سے گزر جاتے ہیں
اور الجھتے نہیں
موسموں کی اداسی
گزرتے ہوئے وقت کی رائگانی
ہمیں ڈھونڈتی ہے
کہ ہم لوٹ آئیں
تو روٹھی ہوئی یہ فضائیں ذرا مسکرائیں
مگر ہم تو خود ساختہ ایک مبہم سماجی شکنجے میں جکڑے ہوئے
ایسے ریشم کے کرمک
جو اپنے ہی اطراف کویے بنا کر
اسی خول میں
عمر بھر کے لیے
قید ہو جاتے ہیں
دائمی غفلتوں کی گھنی نیند سو جاتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.