Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سماجی تنہائی

سلمان ثروت

سماجی تنہائی

سلمان ثروت

MORE BYسلمان ثروت

    ایک چھوٹی سی ڈبیا میں ہم نے کھلونوں کی دنیا بسائی

    وہ دنیا کہ جس میں

    محافل کی رونق

    سرابوں کے منظر

    روابط کے جھولے

    دکھاوے کی خوشیاں تھیں ارمان تھے

    الغرض دل کے بہلانے کو سارے سامان تھے

    اپنی تخلیق کردہ یہ دنیا ہمیں اتنی دلکش لگی

    اس میں جانے کا ہم نے ارادہ کیا

    اور خود کو بہت مختصر کر لیا

    اپنی خم دار گردن لیے

    ہم سرابوں میں داخل ہوئے

    تو کھلونوں کے جھرمٹ میں گم ہو گئے

    آج رشتوں کے ڈھانچے

    گھروں میں پڑے منتظر ہیں ہمارے

    کہ ہم لوٹ آئیں

    تو جذبوں کی حدت سے ان کو نئی زندگی مل سکے

    شہر سونے پڑے ہیں

    فقط سائے چل پھر رہے ہیں

    وہ سائے جو اک دوسرے سے گزر جاتے ہیں

    اور الجھتے نہیں

    موسموں کی اداسی

    گزرتے ہوئے وقت کی رائگانی

    ہمیں ڈھونڈتی ہے

    کہ ہم لوٹ آئیں

    تو روٹھی ہوئی یہ فضائیں ذرا مسکرائیں

    مگر ہم تو خود ساختہ ایک مبہم سماجی شکنجے میں جکڑے ہوئے

    ایسے ریشم کے کرمک

    جو اپنے ہی اطراف کویے بنا کر

    اسی خول میں

    عمر بھر کے لیے

    قید ہو جاتے ہیں

    دائمی غفلتوں کی گھنی نیند سو جاتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے