یہ اردو زبان کی بدنصیبی ہی کہی جائے گی کہ اس کے اپنے ہی لوگ بار بار اس کا رسم الخط بدلنے کی تجویز پیش کرتے ہیں۔ لیکن رسم الخط سے بھی بڑا مسئلہ اس زبان کے نام کا ہے۔ آج جسے ہم 'اردو' کہتے ہیں، اس کا یہ نام ہمیشہ سے نہیں تھا۔ جب سے انگریزوں کی نظر اس ملک کی تہذیب اور زبان پر پڑی، انہوں نے اسے بانٹنے کا کام شروع کر دیا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اٹھارویں صدی کے آخر تک 'زبانِ اردوئے معلیٰ' کا خطاب فارسی کے لیے عام تھا۔ لفظ 'اردو' کے معنی تھے 'شاہجہان آباد کا شہر' یا 'قلعہ معلیٰ'۔ جب دہلی میں یہاں کی مقامی زبان (یعنی آج کی اردو) عام ہوئی، تو اسے 'زبانِ اردوئے معلیٰ' کہا جانے لگا۔ وقت کے ساتھ یہ نام مختصر ہو کر صرف 'اردو' رہ گیا۔
انگریزوں کو یہ بات بہت راس آئی۔ وہ چاہتے تھے کہ ہندوؤں کی کوئی الگ زبان ہو اور وہ 'ہندی' کہلائے۔ لہٰذا، ڈاکٹر جان گلکرسٹ (John Gilchrist) جیسے انگریز افسروں نے 'ہندی' کا نام اردو زبان سے چھین کر ایک نئی زبان کو دے دیا۔ انگریزوں نے ایک اور ستم یہ کیا کہ انہوں نے لفظ 'اردو' کے معنی 'لشکر بازار' یا 'فوج' بیان کیے۔ آہستہ آہستہ یہ بات اتنی مشہور ہو گئی کہ خود اردو والے بھی یہ سمجھنے لگے کہ ان کی زبان دراصل ایک فوجی اور لشکری زبان ہے۔ احسن مارہروی جیسے شاعروں نے تو باقاعدہ 'اردو لشکر' نام کی نظم لکھ ڈالی اور انگریزوں کو اردو کا محسن مان لیا۔
اگر اردو زبان کا اصل نام، یعنی 'ہندی' برقرار رکھا جاتا، تو یہ افسانہ گھڑنا ممکن ہی نہ تھا کہ یہ لشکری زبان ہے۔ بھلا کون مانتا کہ جس زبان کا نام 'ہندی' ہو، اسے فوجیوں نے بنایا ہے؟ میر امن نے جب 'باغ و بہار' لکھی، تو انہوں نے بھی یہ بتانے سے گریز کیا کہ اس زبان کا اصل نام ہندی ہے۔ لیکن عظیم شاعر میر تقی میر اس حقیقت سے واقف تھے۔ جب میر کہتے ہیں:
کیا جانوں لوگ کہتے ہیں کس کو سرورِ قلب
آیا نہیں یہ لفظ تو ہندی زباں کے بیچ
تو یہاں لفظ 'ہندی' سے میر کا مطلب اسی زبان سے تھا جس میں وہ شعر کہتے تھے اور جسے آج ہم 'اردو' کہتے ہیں۔ گلکرسٹ نے خود مانا تھا کہ اس زبان کا اصل نام 'ہندی' یا 'ہندوی' ہے، لیکن اس نے جان بوجھ کر اسے 'ہندوستانی' اور پھر 'اردو' کا نام دیا تاکہ ہندو اور مسلمان اپنی اپنی الگ زبانوں کے نام پر بٹ جائیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم آج بھی انگریزوں کی اس سازش کو سمجھے بنا اپنی ہی زبان کی تاریخ کو غلط نظریے سے دیکھتے ہیں۔
