Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سفر کا دکھ

کمار پاشی

سفر کا دکھ

کمار پاشی

MORE BYکمار پاشی

    ہمیں الزام مت دینا

    ہمیں تسلیم ہے گردش سفر کی

    اک تماشا تھی

    کبھی تم سے ملے ہوتے

    تمھارے علم سے ذہنوں کو اپنے جگمگا لیتے

    وگرنہ تم کو بھی اپنے سفر میں ساتھ لے لیتے

    تو نظروں میں تمہاری

    ہم بھی کچھ ممتاز ہو جاتے

    مگر یہ ہوش ہی کب تھا

    رگوں میں گرم لذت سرسراتی تھی

    نرالے راستے ہم کو بلاتے تھے

    ہمیں معلوم ہے ہم بھی انوکھے تھے

    تماشا بن گئے ہوں گے

    تماشا بن گئے ہوں گے!!

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے