سفر کا دکھ
ہمیں الزام مت دینا
ہمیں تسلیم ہے گردش سفر کی
اک تماشا تھی
کبھی تم سے ملے ہوتے
تمھارے علم سے ذہنوں کو اپنے جگمگا لیتے
وگرنہ تم کو بھی اپنے سفر میں ساتھ لے لیتے
تو نظروں میں تمہاری
ہم بھی کچھ ممتاز ہو جاتے
مگر یہ ہوش ہی کب تھا
رگوں میں گرم لذت سرسراتی تھی
نرالے راستے ہم کو بلاتے تھے
ہمیں معلوم ہے ہم بھی انوکھے تھے
تماشا بن گئے ہوں گے
تماشا بن گئے ہوں گے!!
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.