نئی نسل کا جادو
عجب لوگ ہیں یہ
کہ سب سے الگ زندگانی کا آدرش انہیں راس آیا
مگر یہ حقیقت بھی سب پر عیاں ہے
انہیں بات کرنے کا کوئی سلیقہ نہیں ہے
تو آؤ
ذرا ہم نپٹنے چلیں ان کے افکار نو سے
یہ رستہ بڑا سہل بھی ہے کٹھن بھی
کہ جس کے سرے پر
کوئی ایسی منزل نہیں
ہم پہنچ کر جہاں
پاؤں کی گرد کو جھاڑ کر کہہ سکیں
سرخ رو ہو گئے ہیں
کہ اس راہ کی آخری حد کوئی بھی نہیں
صرف سائے ہیں آپس میں دست و گریباں
ہر آدرش شاید غلط ہے یہ سمجھو
کہ ہم خود کو بہلانے کی آڑ میں جادو ٹونے کو سچ جان کر
مسکراتے ہیں دل میں
مگر یہ سمجھ لائیں گے ہم کہاں سے
کہ اک دن اچانک
یہ جادو بھی اپنا اثر تیاگ دے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.