دور کے مناظر
تو اپنے خول سے باہر نکل
اور دیکھ
ان دیکھے مناظر کی یہ ہیبت ناک عریانی
ہوا کے پیرہن میں
گھوم جا چاروں دشاؤں میں
نہ کر محسوس کچھ بس دیکھتا جا
اور بکھیرے جا
تو اپنی روح کے جلوے خلاؤں میں
ترے سر پر سمندر ہیں
ترے پاؤں سے ٹکراتی ہوئی بنجر زمینیں ہیں
ترے سینے میں سورج ہانپتے ہیں
اور آنکھوں میں
ہے نشہ گرم راتوں کا
تو اپنے خول سے باہر نکل
اور ان خلاؤں میں
تو ہنستا گنگناتا چل
ہوا کے ساتھ بہتا چل
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.