Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سرد ملاقات

المیر بیخود

سرد ملاقات

المیر بیخود

MORE BYالمیر بیخود

    اس بار جب تم آؤ

    تو اس ٹھٹھرتی رات میں

    اپنے جوتوں کے تسمے ڈھیلے مت کرنا

    کمرے کی انگیٹھی اب سرد ہو چکی ہے

    اور ہمیں بس اتنی ہی دیر رکنا ہے

    جتنی دیر میں

    الاؤ کے کنارے پڑی کوئی آخری چنگاری

    اپنی ہی راکھ کے بوجھ سے کالی پڑ جائے

    ہمارے درمیان اب

    کوئی ایسی ادھڑی ہوئی سیون نہیں بچی

    جسے بے کار باتوں کے دھاگے سے سیا جائے

    ہم دونوں نے اپنے حصے کے سارے گلے ساری شکایتیں

    پچھلے سال کی سیلن زدہ دیواروں میں چنوا دی ہیں

    اب تو بس

    ایک رسم ہے

    جیسے میت کو دفنانے کے بعد لوگ

    قبرستان میں لگے نل کے برفاب پانی سے

    خاموشی سے ہاتھ دھوتے ہیں

    یہ ملاقات

    کسی پرانی خستہ حال کوٹھری کا وہ آخری چکر ہے

    جہاں سے سارا سامان اٹھایا جا چکا ہو

    اور بس یہ دیکھنے کے لیے مڑنا ہو

    کہ کوئی ضروری چیز پیچھے تو نہیں رہ گئی

    اور ہم دونوں جانتے ہیں

    وہاں کچھ نہیں بچا

    نہ میری انگلیوں کے پوروں میں

    تمہارے بالوں کی کوئی الجھن باقی ہے

    نہ تمہارے ماتھے پر

    میرے کسی پرانے انتظار کی کوئی شکن

    یہ الوداع

    کسی بس اسٹینڈ کی جذباتی بھیڑ نہیں

    یہ تو اس پرانی رسید کی طرح ہے

    جس کا رنگ گرم لمبے بھاری بھرکم

    کوٹ کی اندرونی جیب میں رکھے رکھے

    بالکل سفید ہو چکا ہو

    اس پر لکھا کیا تھا

    اب کوئی نہیں جانتا

    جب تم اٹھو

    تو دھندلے شیشوں سے باہر دیکھتے ہوئے

    پلٹ کر دیکھنے کی روایتی زحمت نہ کرنا

    کیونکہ میں بھی تمہیں جاتے ہوئے نہیں دیکھوں گا

    میری نظریں تو شاید

    اس وقت

    الماری کے اس خالی خانے پر جمی ہوں گی

    جہاں کبھی تمہاری یادیں خط

    تحفے رکھے رہتے تھے

    تمہارے قدموں کی چاپ

    باہر گلی کی گہری دھند اور سناٹے میں گھل جائے گی

    اور میں

    بس کھڑکی کا وہ پٹ بند کر دوں گا

    جو جما دینے والی سرد ہوا کے زور سے

    اکثر راتوں کو

    بلا وجہ کھل جایا کرتا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے