ذرا سی نیند
میں تجھ کو سوچ کر سوتا ہوں
اے غارت گر ایماں
مجھے حوروں کی قربت میں
بلوریں جام ملتے ہیں
جوانی سے بھرے گل رنگ سینوں کے
گداز اور نازکی مل کر
مرے مسعودؔ ہاتھوں کو جزائے خیر دیتے ہیں
حدود وقت سے باہر نکل کر
ہر طرح کے خوف سے آزاد دنیا میں
میں جب تک چاہتا ہوں جس طرح سے چاہتا ہوں میں
نشاط انگیز ایوانوں میں داد عیش دیتا ہوں
یہ تجھ کو سوچنا جاناں
بڑی اچھی عبادت ہے
بس اتنی شرط ہے اس میں
کہ تجھ کو سوچتے لمحے
مجھے میرے ارادے سے
ذرا سی نیند آ جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.