Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ذرا سی نیند

مقصود سروری

ذرا سی نیند

مقصود سروری

MORE BYمقصود سروری

    میں تجھ کو سوچ کر سوتا ہوں

    اے غارت گر ایماں

    مجھے حوروں کی قربت میں

    بلوریں جام ملتے ہیں

    جوانی سے بھرے گل رنگ سینوں کے

    گداز اور نازکی مل کر

    مرے مسعودؔ ہاتھوں کو جزائے خیر دیتے ہیں

    حدود وقت سے باہر نکل کر

    ہر طرح کے خوف سے آزاد دنیا میں

    میں جب تک چاہتا ہوں جس طرح سے چاہتا ہوں میں

    نشاط انگیز ایوانوں میں داد عیش دیتا ہوں

    یہ تجھ کو سوچنا جاناں

    بڑی اچھی عبادت ہے

    بس اتنی شرط ہے اس میں

    کہ تجھ کو سوچتے لمحے

    مجھے میرے ارادے سے

    ذرا سی نیند آ جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے