Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

لباس اتحاد

بابا جمال بہرائچی

لباس اتحاد

بابا جمال بہرائچی

MORE BYبابا جمال بہرائچی

    دلچسپ معلومات

    (۱۹۳۶ء)

    دیکھنا کچھ چاہیئے کچھ کر دکھانا چاہیئے

    پردۂ غفلت کو آنکھوں سے ہٹانا چاہیئے

    دل کو باہم گرد کینہ سے بچانا چاہیئے

    دامن اخلاق پر دھبہ نہ آنا چاہیئے

    کوئی خاکہ زندگی کا کوئی تصویر عمل

    چھوڑ کر اس عالم فانی سے جانا چاہیئے

    کار فرما ہے تمدن جب کہ اپنی ذات میں

    پھر ہمیں اک دوسرے کے کام آنا چاہیئے

    عقل و دانش لوٹ لیتی ہے غلامی کی شراب

    حریت کا جام ہوش افزا چڑھانا چاہیئے

    جس طرح رکتا نہیں ہے سیل دریا جوش میں

    یوں قدم راہ ترقی میں بڑھانا چاہیئے

    کاہلی میں اور محنت میں ہے یہ فرق عمل

    اس کو اک پل صرف اس کو اک زمانہ چاہیئے

    چاہیئے ہم کو نہ ہمدم غیر کا چنگ و رباب

    ساز اپنا چاہیئے اپنا ترانہ چاہیئے

    چل رہی ہے شعلہ زا باد مخالف تند و تیز

    آتش تفریق سے دامن بچانا چاہیئے

    جس سے بنتا ہو لباس اتحاد و اتفاق

    ایسا تانا چاہیئے اور ایسا بانا چاہیئے

    پڑ رہی ہے پھولوں پر گلچیں کی دزدیدہ نظر

    نوجوانان چمن کو سر اٹھانا چاہیئے

    رو سیہ حاسد نہ پائے اب کہیں چھپنے کی جا

    شمع خلق باہمی گھر گھر جلانا چاہیئے

    جرم عصیاں کے لئے درکار ہے حیلہ کوئی

    شان رحمت کے لئے کوئی بہانہ چاہیئے

    کیجیے کچھ ذکر و فکر دور مستقبل جمالؔ

    جا چکا جو وقت اس کو بھول جانا چاہیئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے