Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جنون آزادی

بابا جمال بہرائچی

جنون آزادی

بابا جمال بہرائچی

MORE BYبابا جمال بہرائچی

    عزم پیما ستم اٹھانا تھا

    غم پہ سو بار غم بھی کھانا تھا

    قوم کا حوصلہ بڑھانا تھا

    جان دینی تھی گھر بچانا تھا

    ملک میں نام کر کے جانا تھا

    ذوق حب وطن دکھانا تھا

    پھر مذاق سخن دکھانا تھا

    پھر کوئی تازہ گل کھلانا تھا

    ہنسنے والوں کو پھر رلانا تھا

    رونے والوں کو پھر ہنسانا تھا

    ہو کے آزاد مسکرانا تھا

    شادمانی کا نغمہ گانا تھا

    سر میں ہوتا جنون آزادی

    توڑ دیتا تھا دام صیادی

    دیکھنی تھی نہ خانہ‌ بربادی

    ہوتا ویرانہ رشک آزادی

    تنکے چن چن کے گھر بنانا تھا

    اپنا اجڑا وطن بسانا تھا

    وہ بھی دن تھے کہ کامیاب تھے ہم

    وہ بھی دن تھے کہ باریاب تھے ہم

    ملک صنعت پہ فتح یاب تھے ہم

    دور حرفت میں انتخاب تھے ہم

    اپنے ہاتھوں میں ہر خزانہ تھا

    وہ زمانہ بھی اک زمانا تھا

    ہم وہی ہیں کہ تھا وطن اپنا

    ہر طرح سے تھا من و عن اپنا

    پھول اپنے تھے اور چمن اپنا

    اپنا جامہ تھا اور تن اپنا

    اپنا پہنا تھا اپنا کھانا تھا

    اپنا پانی تھا اپنا دانہ تھا

    ٹہنی ٹہنی کو بارہا دیکھا

    پھول کانٹے کو ایک جا دیکھا

    غنچے غنچے کو لب کشا دیکھا

    پتے پتے کو ہم نوا دیکھا

    جس زباں پر بھی جو فسانا تھا

    اپنے ہی ملک کا ترانہ تھا

    حاصل قیل و قال دیکھ لیا

    اہل دنیا کا حال دیکھ لیا

    دوستی کا مآل دیکھ لیا

    کر کے چاہت جمالؔ دیکھ لیا

    دل لگانا تو اک بہانا تھا

    الغرض مطلبی زمانا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے