یک آتشہ
بچوں کی طرح وہ ہنستی ہے گاتی ہے شور مچاتی ہے
ہنستی ہے تو ہنستی جاتی ہے روتی ہے تو روتی جاتی ہے
وہ بھولی بھالی لڑکی ہے یا کوئی ندی برساتی ہے
سانسوں میں باس ہے پھولوں کی اور باتوں میں ہریالی ہے
مکھڑے پہ چھلکتی ہے لالی من کرودھ کپٹ سے خالی ہے
وہ سرخ گلاب کی بیٹی ہے کومل کلیوں کی ڈالی ہے
آنکھیں ہیں شرارت کے شعلے ہر پل میں آگ لگاتے ہیں
یہ شعلے رنگ برنگے ہیں یہ دل کی لگی بھڑکاتے ہیں
جو ان کی زد میں آتا ہے یہ اس کی چتا بناتے ہیں
میں جب بھی اس کو دیکھتا ہوں بس سوچتا ہی رہ جاتا ہوں
اک آنچ مجھے سمجھاتی ہے اک آنچ کو میں سمجھاتا ہوں
اے وقت کی اندھی لہر ٹھہر میں آتا ہوں میں آتا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.