راز جو حرف
اک حسین چہرے کو
رابطے میں دیکھا تھا
ضابطے سے چاہا تھا
رابطے بڑھائے تو
دل نواز باتوں نے
قید کر لیا مجھ کو
مرتعش صداؤں میں
رابطوں کی ڈوری کو
خوشگوار وعدوں سے
حرف حرف باندھا تھا
جال رابطوں کا تھا
اک شناخت نے آخر دوسری سے جڑنا تھا
اس حسین چہرے کے بے کراں روابط میں
خود کو کھو دیا میں نے
رابطوں کے جنگل میں
ناشناس چہروں اور
راز جو حروفوں کی الجھنوں سے گھبرا کر
آج سب ضوابط کو
راستے میں چھوڑ آیا
رابطوں کو توڑ آیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.