Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہ وہی آگ ہے

سلمان ثروت

یہ وہی آگ ہے

سلمان ثروت

MORE BYسلمان ثروت

    سر بسر پھیلتی

    جسم سے روح تک

    وحشتوں کی فضا میں سلگتی ہوئی

    مجھ میں جلتی ہوئی یہ عجب آگ ہے

    وحشتوں کی فضا

    جس کی آغوش میں

    دل بھی خود‌ سوز ہے

    بس تذبذب کا عالم شب و روز ہے

    اک طرف آگہی کی حسیں کہکشاں

    اک طرف شاعری کا پرستان ہے

    اک نظر میں اگر ہے جہان یقیں

    اک نظر میں تخیل کا امکان ہے

    اور اس بے قراری کے ماحول میں

    ایک طرفہ تماشہ ہے کار جہاں

    زندگی ان عناصر کے سنجوگ سے شعلہ زن

    ایک آتش کدہ

    جو بھڑکتا ہے روح و بدن کے تعلق کی تکرار سے

    اہتمام ہنر کی رکاوٹ میں آتے فرائض کے انبار سے

    کشمکش ہے جو مابین علم و عمل

    شعلگی سے اٹھی تھی بہ روز ازل

    یہ وہی آگ ہے

    یہ وہی آگ ہے

    روز و شب جس میں راشد کے افکار جلتے رہے

    اور تخیل کی تجسیم کرتے رہے

    فیض کا دل سلگتا رہا ہے اسی آگ میں

    کتنے تخلیق کاروں کے فن کا کرشمہ یہی آگ تھی

    یہ وہی آگ ہے

    بام ادراک پر

    جس نے روشن کیے

    آگہی کے دئے

    جو کبھی دل کے معبد میں قرنوں اجالے کا منبع رہی

    جس سے شوق جنوں کو حرارت ملی

    جس کی حدت سے احساس کندن بنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے