یہ وہی آگ ہے
سر بسر پھیلتی
جسم سے روح تک
وحشتوں کی فضا میں سلگتی ہوئی
مجھ میں جلتی ہوئی یہ عجب آگ ہے
وحشتوں کی فضا
جس کی آغوش میں
دل بھی خود سوز ہے
بس تذبذب کا عالم شب و روز ہے
اک طرف آگہی کی حسیں کہکشاں
اک طرف شاعری کا پرستان ہے
اک نظر میں اگر ہے جہان یقیں
اک نظر میں تخیل کا امکان ہے
اور اس بے قراری کے ماحول میں
ایک طرفہ تماشہ ہے کار جہاں
زندگی ان عناصر کے سنجوگ سے شعلہ زن
ایک آتش کدہ
جو بھڑکتا ہے روح و بدن کے تعلق کی تکرار سے
اہتمام ہنر کی رکاوٹ میں آتے فرائض کے انبار سے
کشمکش ہے جو مابین علم و عمل
شعلگی سے اٹھی تھی بہ روز ازل
یہ وہی آگ ہے
یہ وہی آگ ہے
روز و شب جس میں راشد کے افکار جلتے رہے
اور تخیل کی تجسیم کرتے رہے
فیض کا دل سلگتا رہا ہے اسی آگ میں
کتنے تخلیق کاروں کے فن کا کرشمہ یہی آگ تھی
یہ وہی آگ ہے
بام ادراک پر
جس نے روشن کیے
آگہی کے دئے
جو کبھی دل کے معبد میں قرنوں اجالے کا منبع رہی
جس سے شوق جنوں کو حرارت ملی
جس کی حدت سے احساس کندن بنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.