Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تذبذب

اظہر سجاد

تذبذب

اظہر سجاد

MORE BYاظہر سجاد

    جانے کیوں میں کھو جاتا ہوں

    ریت پہ جب تم حرف سجا کر یہ کہتے ہو

    کیا لکھا ہے

    اور چہرے پہ رنگ بکھیرے

    جب کہتے ہو

    کیا سوچا ہے

    یوں لگتا ہے چاروں جانب پھول کھلے ہوں

    بن بادل برسات ہو جیسے

    دھوپ ہو جیسے سرد رتوں کی

    کیا کیا تم لکھتے رہتے ہو

    پوچھ رہے ہو جانے کیا کیا

    جانے کیا کیا سوچ رہے ہو

    کیا لکھا ہے

    کیا سوچا ہے

    دیکھو سب اچھا لگتا ہے

    پھر بھی نجانے

    کیوں کر گم سم ہو جاتا ہوں

    کھو جاتا ہوں

    اک بے جان گھروندے جیسا

    مٹی مٹی ہو جاتا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے