تذبذب
جانے کیوں میں کھو جاتا ہوں
ریت پہ جب تم حرف سجا کر یہ کہتے ہو
کیا لکھا ہے
اور چہرے پہ رنگ بکھیرے
جب کہتے ہو
کیا سوچا ہے
یوں لگتا ہے چاروں جانب پھول کھلے ہوں
بن بادل برسات ہو جیسے
دھوپ ہو جیسے سرد رتوں کی
کیا کیا تم لکھتے رہتے ہو
پوچھ رہے ہو جانے کیا کیا
جانے کیا کیا سوچ رہے ہو
کیا لکھا ہے
کیا سوچا ہے
دیکھو سب اچھا لگتا ہے
پھر بھی نجانے
کیوں کر گم سم ہو جاتا ہوں
کھو جاتا ہوں
اک بے جان گھروندے جیسا
مٹی مٹی ہو جاتا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.