صدائے وطن
زباں زباں پہ ہر اک نعرۂ فدا وطن
چمن میں گونج رہی ہے یہی صدائے وطن
خمیر اہل وطن کیا ہے ماسوائے وطن
یہ خاک ہائے وطن ہے یہ خاک ہائے وطن
تمام قوموں کی گنگ و جمن کا اک سنگم
بریں لحاظ مقدم سی ہے رضائے وطن
ملی ہے جو بڑی قربانیوں سے آزادی
وہی ہے حسن کی دیوی یہ مہ لقائے وطن
یہ مسئلہ بھی حقیقت میں نفسیاتی ہے
رہے وطن میں کوئی کیسے بے وفائے وطن
تمام نعمتیں اس کی ہیں مستعار اس سے
تو کیوں نہ وادیٔ جنت میں یاد آئے وطن
نظر نظر یہ سر چشم امتیاز جمالؔ
جمالیات سے مملو ہیں جلوہ ہائے وطن
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.