Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

راہ روان آرزو

سلمان ثروت

راہ روان آرزو

سلمان ثروت

MORE BYسلمان ثروت

    سحر ہوئی تو کسے خبر تھی

    کہ چاند نکلا تھا جب فلک پر تو کیا سمے تھا

    سیاہ راتوں میں جانے کتنے ستارے چپکے سے جھلملا کر

    فصیل شب میں نقب لگا کر

    وفور تیرہ شبی کے ہاتھوں ہی جل بجھے تھے

    خلا کے پہلو میں ایسے کتنے شہاب ٹوٹے ستارے ڈوبے کسے خبر ہے

    کسے خبر ہے کہ رات جگنو چمک رہے تھے

    چراغ بام ہنر پہ ہر سو دمک رہے تھے

    مگر یہ منظر کسی کی نظروں سے کیا گزرتے

    خروش کرتی وہ باد صرصر

    ہر اک دیے کے لیے پیام اجل بنی تھی

    بس ایک لمحے کی روشنی تھی

    وہی خوشی تھی

    حباب صورت نصیب ابھرے جو کہکشاں پر

    زمانہ ٹکڑوں میں بٹ گیا تھا

    وجود خود میں سمٹ گیا تھا

    حصار ظلمت میں گرد ہوتے عمیق جذبوں کو کس نے دیکھا

    ہے کوئی شاہد گواہ کوئی

    کسے بتائیں سراب لمحوں کے رتجگوں میں

    جو خواب تعبیر ہو نہ پائے

    کہاں گئے وہ

    مہیب راتوں میں دور اجلت کا اژدہا تھا

    جو خواب و خواہش نگل رہا تھا

    امید و امکاں کو ڈس گیا تھا

    کہ زہر غفلت بھرا ہوا تھا رگوں میں اس کی

    یہ کون سمجھے

    یہ کون جانے

    ریاضتوں کی

    مراقبوں کی

    طویل راتیں گزار کر بھی

    جو آنکھ کھولی

    تو دن نہیں تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے