یہ تو جب ممکن ہے
پھر چلے آئے ہیں ہمدم لے کے ہمدردی کے دام
آہوئے رم خوردہ کی وحشت بڑھانے کے لیے
میرے دل سے تیری چاہت کو مٹانے کے لیے
چھیڑ کر افسانۂ ناکامیٔ اہل وفا
تیری مجبوری کے قصے میری بربادی کی بات
اپنی اپنی سرگزشتیں دوسروں کے تجربات
ان کو کیا معلوم لیکن تیری چاہت کے کرم
میری تنہائی کے دوزخ میری جنت کا بھرم
تیری آنکھوں کا وفا آمیز افسردہ جمال
کاش اتنا سوچ سکتے خیر خواہوں کے دماغ
یہ تو جب ممکن ہے بجھ جائے ہر آنسو ہر چراغ
خود کو ان میں دفن کر دوں بھول جاؤں اپنا نام
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.