میں ہوں اپنی شکست کی آواز
دیکھ کر اشک مرے تو نے کیا ہے محسوس
یہاں زخموں کی نمائش بھی ہے دستور اے دوست
میں نے پوجا تھا انہیں میں نے چھپایا تھا انہیں
میری آنکھوں سے جو رسنے لگے ناسور اے دوست
درد کی بات کسی ہنستی ہوئی محفل میں
جیسے کہہ دے کسی تربت پہ لطیفہ کوئی
آرزو کھویا ہوا کوئی پیمبر زادہ
زندگی سہمی ہوئی جیسے ضعیفہ کوئی
میں نے اشکوں کو چھپایا وہ مگر چھپ نہ سکے
میری ناکامی کی روداد بھی ناکام ہوئی
میں تو مسجد سے چلا تھا کسی کعبے کی طرف
دکھ تو یہ ہے کہ عبادت مری بد نام ہوئی
اب نہ کعبے کی تمنا نہ کسی بت کی ہوس
اب تو روتا ہوں کسی مرکز انساں کے لیے
خود کو بیچا انہیں بیچا جو کبھی بک نہ سکے
قصر سلطاں کے لیے تخت سلیماں کے لیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.