Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میں ہوں اپنی شکست کی آواز

احمد راہی

میں ہوں اپنی شکست کی آواز

احمد راہی

MORE BYاحمد راہی

    دیکھ کر اشک مرے تو نے کیا ہے محسوس

    یہاں زخموں کی نمائش بھی ہے دستور اے دوست

    میں نے پوجا تھا انہیں میں نے چھپایا تھا انہیں

    میری آنکھوں سے جو رسنے لگے ناسور اے دوست

    درد کی بات کسی ہنستی ہوئی محفل میں

    جیسے کہہ دے کسی تربت پہ لطیفہ کوئی

    آرزو کھویا ہوا کوئی پیمبر زادہ

    زندگی سہمی ہوئی جیسے ضعیفہ کوئی

    میں نے اشکوں کو چھپایا وہ مگر چھپ نہ سکے

    میری ناکامی کی روداد بھی ناکام ہوئی

    میں تو مسجد سے چلا تھا کسی کعبے کی طرف

    دکھ تو یہ ہے کہ عبادت مری بد نام ہوئی

    اب نہ کعبے کی تمنا نہ کسی بت کی ہوس

    اب تو روتا ہوں کسی مرکز انساں کے لیے

    خود کو بیچا انہیں بیچا جو کبھی بک نہ سکے

    قصر سلطاں کے لیے تخت سلیماں کے لیے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے