Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہجر کی رات میں

غلام عباس ساغر

ہجر کی رات میں

غلام عباس ساغر

MORE BYغلام عباس ساغر

    تم گئے تھے

    جیسے دریا کنارے سے ریت چھین لے

    جیسے ہوا پتے سے سرگوشی کیے بغیر

    بس گزر جائے

    میں وہ درخت ہوں

    جس کی شاخوں پر اب صرف سناٹے اگتے ہیں

    پتے خاموش ہیں

    پر ہر خاموشی میں تمہارا نام گونجتا ہے

    ہجر یہ کوئی فاصلہ نہیں

    یہ ایک ایسی آگ ہے

    جو اندر ہی اندر جلتی ہے

    اور کوئی دھواں بھی نہیں ہوتا

    کہ دنیا کو دکھا سکوں

    کہ دیکھو میں جل رہا ہوں

    رات کی گود میں لیٹ کر

    میں اکثر تمہارے نام کی لوریاں سنتا ہوں

    اور نیند میری آنکھوں سے کہتی ہے

    وہ جو خواب بن کے آتا تھا

    آج اسے بھی ہجر ہو گیا ہے

    میں اب لفظ نہیں لکھتا

    محض خاموشیوں کو ترتیب دیتا ہوں

    اور وہ سب تمہارا چہرہ بناتی ہیں

    بے آواز مگر زندہ

    ساغرؔ اب صرف تمہاری یاد سے بات کرتا ہے

    کہ باقی سب بولنے والے

    خالی شور ہیں

    اور ہجر

    ایک مکمل گفتگو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے