پردیس قید اور خاموشی
آج کے دن گلیوں میں سبز جھنڈے پھر لہرا رہے ہیں
لیکن جن ہاتھوں نے کبھی آٹے سے جھنڈیاں چپکائی تھیں
وہ ہاتھ اب پردیس کی مشقت میں سفیدی اوڑھ چکے ہیں
وہ جو ملک کے لئے نعرے لگاتے تھے
سڑکوں پر حوصلے کے قافلے بناتے تھے
وہ آج سلاخوں کے پیچھے خاموش بیٹھے ہیں
اور ان کی آوازوں کی گونج صرف دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہے
چوک میں بجتے قومی نغموں کے بیچ
غربت کی گونگی صدا دب جاتی ہے
بازار میں سبز اور سفید کپڑے بکتے ہیں
مگر سفید آٹے کی قیمت ماں کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسوؤں سے زیادہ ہے
قرض کے کاغذ پہ دستخط کرتے ہوئے
ہم سوچتے ہیں کیا یہ بھی آزادی ہے
جب سوچنے پر پابندی ہو
بولنے پر خطرہ ہو
اور امید کی دیوار پر ہر روز ایک نئی دراڑ پڑے
پردیس میں بیٹھا وہ شخص
جس نے کبھی اسکول میں آزادی کا ترانہ بلند آواز میں پڑھا تھا
اب ویڈیو کال پر بس اتنا کہتا ہے
یہاں وقت اچھا ہے بس وطن کی یاد آتی ہے
یوم آزادی ہے آج
لیکن کچھ دل قید ہیں کچھ ہاتھ خالی کچھ زبانیں بند
اور سبز پرچم کے نیچے
سوال اب بھی لہرا رہے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.