Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پردیس قید اور خاموشی

غلام عباس ساغر

پردیس قید اور خاموشی

غلام عباس ساغر

MORE BYغلام عباس ساغر

    آج کے دن گلیوں میں سبز جھنڈے پھر لہرا رہے ہیں

    لیکن جن ہاتھوں نے کبھی آٹے سے جھنڈیاں چپکائی تھیں

    وہ ہاتھ اب پردیس کی مشقت میں سفیدی اوڑھ چکے ہیں

    وہ جو ملک کے لئے نعرے لگاتے تھے

    سڑکوں پر حوصلے کے قافلے بناتے تھے

    وہ آج سلاخوں کے پیچھے خاموش بیٹھے ہیں

    اور ان کی آوازوں کی گونج صرف دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہے

    چوک میں بجتے قومی نغموں کے بیچ

    غربت کی گونگی صدا دب جاتی ہے

    بازار میں سبز اور سفید کپڑے بکتے ہیں

    مگر سفید آٹے کی قیمت ماں کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسوؤں سے زیادہ ہے

    قرض کے کاغذ پہ دستخط کرتے ہوئے

    ہم سوچتے ہیں کیا یہ بھی آزادی ہے

    جب سوچنے پر پابندی ہو

    بولنے پر خطرہ ہو

    اور امید کی دیوار پر ہر روز ایک نئی دراڑ پڑے

    پردیس میں بیٹھا وہ شخص

    جس نے کبھی اسکول میں آزادی کا ترانہ بلند آواز میں پڑھا تھا

    اب ویڈیو کال پر بس اتنا کہتا ہے

    یہاں وقت اچھا ہے بس وطن کی یاد آتی ہے

    یوم آزادی ہے آج

    لیکن کچھ دل قید ہیں کچھ ہاتھ خالی کچھ زبانیں بند

    اور سبز پرچم کے نیچے

    سوال اب بھی لہرا رہے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے