جانے کہاں وہ درد کے مارے چلے گئے
جانے کہاں وہ درد کے مارے چلے گئے
ہم کو سمجھنے والے ہمارے چلے گئے
اک ایک کر کے سب کو ہی دریا نے کھا لیا
ہوتے تھے کل جو آج کنارے چلے گئے
جانا کہاں تھا یہ تو ہمیں بھی پتہ نہ تھا
بہتی ہوئی ہوا کے سہارے چلے گئے
حالانکہ صبح ہوتے ہی سورج نکل گیا
افسوس ہے کہ چاند ستارے چلے گئے
ہم نے بھی دل کو ضبط کا خوگر بنا لیا
ہر ایک لمحہ خود کو سنوارے چلے گئے
فرحانؔ جی یہ آپ نے دنیا میں کیا کیا
بے وجہ زندگی کو گزارے چلے گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.