ہر طرف دھوم ان کی مچی ہے ہر طرف ذکر صل علیٰ ہے
ہر طرف دھوم ان کی مچی ہے ہر طرف ذکر صل علیٰ ہے
کون پردے سے آیا ہے باہر نور کس کا یہ پھیلا ہوا ہے
شان جس کی خدا نے بڑھائی عرش پر جس کی مسند سجائی
جس کے ہاتھوں میں ساری خدائی وہ نبی آج پیدا ہوا ہے
حور و غلماں نے نغمے سنائے چاند تاروں نے بھی گیت گائے
لے کے پیغام جبریل آئے آج محبوب رب آ گیا ہے
کس کے جلووں سے عالم ہے روشن کس کی نکہت سے مہکا ہے گلشن
کس کی خوشبو بسی ہے گلوں میں نور کس کا چمن کو ملا ہے
مرحبا مرحبا کے یہ نعرے آج عاشق لگائیں گے سارے
جگمگا کر یہ کہتے ہیں تارے جان و دل مصطفیٰ پر فدا ہے
دست بستہ فرشتے کھڑے ہیں لب پہ آمد کے نغمے سجے ہیں
بے کسوں کی حمایت کی خاطر آج شاہ عرب آ رہا ہے
جس کو کہتے ہیں وحدت کا درپن حسن جس کا ہے عالم میں روشن
اس کے تلووں کا مل جائے دھوون ساری امت کا جو پیشوا ہے
آسمانوں کی عظمت بڑھا کر سر پہ تاج شفاعت سجا کر
وصل و فرقت کے پردے اٹھا کر کون قصر دنا تک گیا ہے
شان وحدت کا پیغام شاکرؔ ہم کو دیتا ہے قرآن شاکرؔ
اہل الفت کو ایمان شاکرؔ مصطفیٰ کی بدولت ملا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.