چمک رہی ہے اندھیرے میں بھی کرن کی طرح
چمک رہی ہے اندھیرے میں بھی کرن کی طرح
یہ زندگی ہے مری شمع انجمن کی طرح
ہماری طبع پریشاں کو پوچھتا کیا ہے
الجھ گئی ہے تری زلف پر شکن کی طرح
سرشک غم کے شراروں سے پوچھ لے اے دوست
پگھل رہا ہے جگر شمع انجمن کی طرح
خیال تک نہ کیا اپنے رہنماؤں نے
وطن میں حال ہمارا ہے بے وطن کی طرح
غرور خسروئے دوراں کو توڑ سکتے ہیں
ہمارا عزم بھی ہے عزم کوہ کن کی طرح
ابھی تو مشق سخن کی ہے ابتدا اے نورؔ
کہوں گا شعر کسی روز اہل فن کی طرح
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.