زندگی سے عشق یوں کرتا رہا
زندگی سے عشق یوں کرتا رہا
موت سے میں عمر بھر ڈرتا رہا
وقت اور حالات کے ہر زخم کو
مرہم امید سے بھرتا رہا
بس کہ قائم ہو سکے امن و اماں
دشمنوں سے دوستی کرتا رہا
زندگی تھی بے وفا تو کیا ہوا
میں تو امید وفا کرتا رہا
تھے وفا کی راہ میں کانٹے بہت
میں اسی رستے سفر کرتا رہا
زندگی کی چاہ میں کیا سوچ کر
زندگی کی موت میں مرتا رہا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.