میں جدھر جاؤں ادھر جائے ضروری تو نہیں
میں جدھر جاؤں ادھر جائے ضروری تو نہیں
میری خاطر وہ ٹھہر جائے ضروری تو نہیں
وقت ہر زخم کو بھر جائے ضروری تو نہیں
زندگی موت سے ڈر جائے ضروری تو نہیں
تیرا دیوانہ اگر تجھ سے بچھڑ بھی جائے
لوٹ کر اپنے وہ گھر جائے ضروری تو نہیں
پیار کا نشہ اتر سکتا ہے دل سے لیکن
نشہ دولت کا اتر جائے ضروری تو نہیں
ملک جمہور کی سرکار بدل جانے سے
اپنی تقدیر سنور جائے ضروری تو نہیں
لاکھ ہو موسم گل لاکھ بہاریں آئیں
دل کا موسم بھی نکھر جائے ضروری تو نہیں
چارہ گر لاکھ کرے زخم پہ مرہم پاشی
گھاؤ باتوں کا بھی بھر جائے ضروری تو نہیں
ساقیٔ بزم تو یوں دیکھ رہا ہے سب کو
اس کی مجھ پر بھی نظر جائے ضروری تو نہیں
اپنی مرضی سے بلالؔ آپ چلے جائیں مگر
بزم انجم میں قمرؔ جائے ضروری تو نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.