جب سے الفت کے زیر اثر ہو گئی
جب سے الفت کے زیر اثر ہو گئی
زندگی موت سے بے خبر ہو گئی
جب غزل میں کوئی حسن آیا نظر
یاد تازہ جناب جگر ہو گئی
پوچھتے ہیں وہ رخ کی شکن دیکھ کر
ختم کیسے ضیائے قمر ہو گئی
سارے عالم کو گھیرے تھیں تاریکیاں
آپ تشریف لائے سحر ہو گئی
شاخ سے ٹوٹتے ہی یہ کیا ہو گیا
پھول کی زندگی مختصر ہو گئی
کوئی تعریف اچھائیوں کی نہیں
اک خطا پہ جہاں کی نظر ہو گئی
گھر سے نکلے تھے ہم راحتیں ڈھونڈنے
دکھ سر راہ تھی ہم سفر ہو گئی
یہ وطن کیا بٹا کتنے انساں بٹے
ایک بستی ادھر کی ادھر ہو گئی
سادے کاغذ پہ میرا قلم چل پڑا
ہر تخیل بہار ظفرؔ ہو گئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.