عشق کی قید سے آزاد رہا
عشق کی قید سے آزاد رہا
ہو کے آباد بھی برباد رہا
صرف مرنے کے لئے جینا تھا
یہ سبق تجھ کو کہاں یاد رہا
عشق کا نام فقط باقی ہے
کون اب دنیا میں فرہاد رہا
الغرض عمر میری بیت گئی
کبھی غمگین کبھی شاد رہا
کیسی امید لگاؤں گل سے
باغباں بن کے جو صیاد رہا
جس نے سایہ کو سدا عام کیا
مدتوں وہ شجر آباد رہا
ایک محسن کو بھلایا مقصودؔ
ایک ظالم ہی مجھے یاد رہا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.