اس جہاں میں آنا ہے
اس جہاں میں آنا ہے
آ کے لوٹ جانا ہے
تم یہ کیوں نہیں کہتے
رشتے کو نبھانا ہے
کب ملو گے تم مجھ سے
میں نے گنگنانا ہے
تم کو چاہنا آخر
دل کو ہی دکھانا ہے
ملنے آ رہے ہو تم
یا کوئی بہانہ ہے
کس سے پیار مانگوں میں
بغض کا زمانہ ہے
تنہا آئے تھے ہم سب
تنہا لوٹ جانا ہے
بس بجھا دو دل میرا
کب تلک جلانا ہے
اس نے چھوڑا تھا مجھ کو
زخم یہ پرانا ہے
کاش وہ کہے مجھ سے
تم پہ حق جتانا ہے
جھوٹی قسمیں مت کھاؤ
تم نے چھوڑ جانا ہے
تم بھی گزرا لمحہ ہو
تم نے یاد آنا ہے
زندگی تو دھوکہ تھا
موت ہی ٹھکانہ ہے
مجھ کو جھوٹا مت سمجھو
میں نے سچ بتانا ہے
ہے دغا تری فطرت
میں نے دھوکا کھانا ہے
میں نے شعر پڑھنے ہیں
تم نے نغمہ گانا ہے
یاروں میں ہوں اس جانب
جس طرف نشانہ ہے
چھوڑ کر گیا اردمؔ
جس کو اپنا مانا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.