آؤ آنکھوں سے یہ پر کیف نظارے لے لو
آؤ آنکھوں سے یہ پر کیف نظارے لے لو
جگمگاتے ہوئے خوابوں کے ستارے لے لو
تم بھی کیا یاد کرو گے کہ ملا تھا کوئی
تم کو جو چیز ہو پیاری مرے پیارے لے لو
زندگی تم نے تلاطم میں گزاری لیکن
اب یہ کشتی چلو دریا کے کنارے لے لو
حلقہ زن درد کی زنجیر ہوئی جاتی ہے
آؤ چپکے سے کبھی درد یہ سارے لے لو
پاس رہنے دو یہ لمحات سکوں بخش مرے
وقت فرحانؔ جو بے چین گزارے لے لو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.