دل سے اٹھ کے چہرے پر اس قدر ہرا ہوگا
دل سے اٹھ کے چہرے پر اس قدر ہرا ہوگا
چارہ ساز سمجھیں گے زخم بھر گیا ہوگا
کھال نوچنے والے نام لکھنے بیٹھیں گے
نام وہ کہ لکھنے میں ہاتھ کانپتا ہوگا
غم کے حد سے بڑھنے پر قہقہے ہی نکلیں گے
خون رونے والوں میں اور بچا بھی کیا ہوگا
اپنے رنگ کی خاطر لڑتی ہوں گی دیواریں
اور سر بھی بڑھ چڑھ کر وار کر رہا ہوگا
سوتا پایا جاؤں گا میں اک اندھے کمرے میں
اور اس کا ہر کونا گھٹ کے مر چکا ہوگا
یہ سفیرؔ تو اب بھی جی رہا ہے حیرت ہے
یعنی باؤلا لڑکا اور باؤلا ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.