Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دل سے اٹھ کے چہرے پر اس قدر ہرا ہوگا

سفیر صدیقی

دل سے اٹھ کے چہرے پر اس قدر ہرا ہوگا

سفیر صدیقی

MORE BYسفیر صدیقی

    دل سے اٹھ کے چہرے پر اس قدر ہرا ہوگا

    چارہ ساز سمجھیں گے زخم بھر گیا ہوگا

    کھال نوچنے والے نام لکھنے بیٹھیں گے

    نام وہ کہ لکھنے میں ہاتھ کانپتا ہوگا

    غم کے حد سے بڑھنے پر قہقہے ہی نکلیں گے

    خون رونے والوں میں اور بچا بھی کیا ہوگا

    اپنے رنگ کی خاطر لڑتی ہوں گی دیواریں

    اور سر بھی بڑھ چڑھ کر وار کر رہا ہوگا

    سوتا پایا جاؤں گا میں اک اندھے کمرے میں

    اور اس کا ہر کونا گھٹ کے مر چکا ہوگا

    یہ سفیرؔ تو اب بھی جی رہا ہے حیرت ہے

    یعنی باؤلا لڑکا اور باؤلا ہوگا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے