Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دل میں رکھتا ہے نہ پلکوں پہ بٹھاتا ہے مجھے

شہریار

دل میں رکھتا ہے نہ پلکوں پہ بٹھاتا ہے مجھے

شہریار

MORE BYشہریار

    دل میں رکھتا ہے نہ پلکوں پہ بٹھاتا ہے مجھے

    پھر بھی اک شخص میں کیا کیا نظر آتا ہے مجھے

    ساری آوازوں کو سناٹے نگل جائیں گے

    کب سے رہ رہ کے یہی خوف ستاتا ہے مجھے

    یہ الگ بات کہ دن میں مجھے رکھتا ہے نڈھال

    رات کی زد سے تو سورج ہی بچاتا ہے مجھے

    اک نئے قہر کے امکان سے بوجھل ہے فضا

    آسماں دھند میں لپٹا نظر آتا ہے مجھے

    تذکرہ اتنا ہوا روح کی آلودگی کا

    جسم صد چاک بھی آئینہ دکھاتا ہے مجھے

    RECITATIONS

    فہد حسین

    فہد حسین,

    فہد حسین

    دل میں رکھتا ہے نہ پلکوں پہ بٹھاتا ہے مجھ فہد حسین

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے