حریفوں نے خلاف اپنے بہت کھولا دہن اپنا
حریفوں نے خلاف اپنے بہت کھولا دہن اپنا
محبت کی زباں پھر بھی بنا طرز سخن اپنا
ہمیں غیروں کی کج رفتاریاں کس راہ سے بھائیں
ہماری چال اپنی ہے ہمارا ہے چلن اپنا
نہ جانے کس ہوا میں ہے دماغ باغباں برہم
چمن اپنا تھا اور ہو کر رہے گا پھر چمن اپنا
تم اپنے ہو کے بھی اپنوں کا غم جب کھا نہیں سکتے
کسی سے اور کہہ کر کیا کریں رنج و محن اپنا
ارے او طالب گل تجھ کو اپنے ذوق کی سوگند
جنوں کو دیکھ پہلے دیکھنا پھر پیرہن اپنا
یہیں کے گل گلے کا ہار ہیں اور ہم نشیں ہوں گے
نہ چھوٹا ہے نہ چھوٹے گا چمن اپنا وطن اپنا
جمالؔ ان حسن کے ماتوں سے اتنا بھی نہیں ہوتا
یگانوں سے الگ رکھا کریں بیگانہ پن اپنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.