نہ بادباں نہ ستارہ کوئی ہمارے ساتھ
نہ بادباں نہ ستارہ کوئی ہمارے ساتھ
نہ صبح نو کا اشارہ کوئی ہمارے ساتھ
زیاں کہیں کہ اسے حاصل حیات کہیں
رہا نہ خواب ہمارا کوئی ہمارے ساتھ
لکھی تھی حسرت دیدار اپنی قسمت میں
جو رہ نہ پایا نظارہ کوئی ہمارے ساتھ
مسافران رہ شوق گھر کو لوٹ چلے
بس ایک دشت کا مارا کوئی ہمارے ساتھ
ہوا نہ وصل اسے بھی تمام عمر نصیب
لپٹ کے رویا کنارہ کوئی ہمارے ساتھ
تمام شہر اسے روشنی سمجھ بیٹھا
تھا ایک جلتا شرارہ کوئی ہمارے ساتھ
ندیمؔ آ گئے ہم اس مقام پر کہ جہاں
نہیں ہے اپنا ہمارا کوئی ہمارے ساتھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.