خوشبو چرا رہا ہے کوئی گلستان سے
خوشبو چرا رہا ہے کوئی گلستان سے
کوتاہیاں ہوئی ہیں کبھی پاسبان سے
غفلت کی نیند سے کبھی جاگیں گے ہم نہیں
پتھر برس بھی جائے اگر آسمان سے
رخ پر نقاب ڈال کے آئے ہیں شام وصل
اب کیا کرے امید کوئی مہربان سے
کیا خوب بات بات پہ کرتے ہیں طنز وہ
بہتر ہے بے زبان کوئی با زبان سے
بے شک بدل ہی جائے گی ہم سایے کی نظر
دیوار گر گئی جو کبھی درمیان سے
اخترؔ تری فضاؤں کی وسعت کا ذکر کیا
گزری ہے اس کی ذات کئی آسمان سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.