حسن والوں نے عجب حشر اٹھا رکھا ہے
حسن والوں نے عجب حشر اٹھا رکھا ہے
ساری دنیا کو ہی دیوانہ بنا رکھا ہے
ایک قاتل نے عجب قہر مچا رکھا ہے
ایک بسمل نے عجب رقص بپا رکھا ہے
جل کے بجھتا ہے کبھی جل کے بھڑک اٹھتا ہے
ہم نے پہلو میں جو اک شعلہ نما رکھا ہے
ڈانٹ کر کہتے ہیں تم چپ رہو منہ بند رکھو
وصل کا تم نے یہ کیا رٹا لگا رکھا ہے
زندگی بھر یہ نظر جس کو ترس جاتی تھی
قبر پر اس نے ادھم آج مچا رکھا ہے
درد یہ میرے کف و پا نہ اٹھا سکتے تھے
جس جگہ تو نے یہ رکھا ہے بجا رکھا ہے
ٹھوکریں لعنت و دشنام ملامت ذلت
اور کیا دنیا میں اس در کے سوا رکھا ہے
مست آنکھوں سے جو اک جام پیا تھا اس پر
دل تو کیا ہم نے جگر اپنا لٹا رکھا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.