سچ تو یہ ہے کہ اب نہیں ہوں میں
سچ تو یہ ہے کہ اب نہیں ہوں میں
تم بھی پھر کیا ہو جب نہیں ہوں میں
ہر طرف میں ہی میں ہوں اس گھر میں
تم یہاں کب تھے کب نہیں ہوں میں
میں بھی اک سانحے کا حصہ تھا
دوستو بے ادب نہیں ہوں میں
اب خرابوں میں ڈھونڈتا ہوں تجھے
زندگانی عجب نہیں ہوں میں
میں جہاں ہوں وہاں نہیں ہو تم
مانتا ہوں کہ رب نہیں ہوں میں
حرف بے معنی و وجود سہی
نکتہ زیر لب نہیں ہوں میں
کیوں مجھے ذوق عشق بخشا تھا
جب تمہاری طلب نہیں ہوں میں
کتنے خوابوں کا ہوں امیں اظہرؔ
غم میں ڈوبی سی شب نہیں ہوں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.