پھیلا ہوا ہے دشت بس اک قیس ہی نہیں
پھیلا ہوا ہے دشت بس اک قیس ہی نہیں
ہم نے تو یہ سنا تھا کہ لیلیٰ مری نہیں
مجھ ناتواں کی بات ہے کون و مکاں کی بات
گر میں نہیں تو ان کی ضرورت کوئی نہیں
آنکھیں نہ ہوں تو سب ہے کسی بے بصر کی بات
شمس و قمر کے پاس کوئی روشنی نہیں
معیار زندگی کو خدا ماننے کے بعد
سب کچھ ہے زندگی میں مگر زندگی نہیں
جس نے کہا تھا یہ کہ ترے پاس ہے ہی کیا
سب کچھ ملے گا اس کو مگر میں کبھی نہیں
ابلیس کو تھا حکم کہ صورت کو سجدہ کر
آساں یہ خال و خد کی مگر بندگی نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.