لا حاصلی میں ہو غم ہستی سے کیا فراغ
لا حاصلی میں ہو غم ہستی سے کیا فراغ
اپنا پتہ ملے جو ملے غیر کا سراغ
مرگ بدن سے مر نہیں سکتا مرا وجود
تم گاڑنا نہیں مری امید کا چراغ
آہستہ برگ گل بہ فشاں بر مزار ما
آہستہ اے صبا مری ہستی ہے داغ داغ
پلکوں پہ رکھ کے جن کو سنبھالا تھا عمر بھر
اب کھو گئے کہاں مری ناکامیوں کے باغ
لے آیا پھر وجود کو سائے کی اوٹ میں
آوارگی کا راستہ شوریدہ اک دماغ
خاموشیوں کے شور میں گم ہو گیا یقیں
دل کے نگر میں رہ گیا بس اک گماں کا داغ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.