کچھ اس لئے شکستہ ہوا حوصلہ مرا
کچھ اس لئے شکستہ ہوا حوصلہ مرا
دیکھا نہیں ہے اس نے بھی دست دعا مرا
ہر عہد میں بہاروں پہ جانیں لٹائی ہیں
پژمردہ موسموں سے تعلق ہی کیا مرا
اس کے سوا کوئی بھی مرا ہم سخن نہیں
ناراض ہو نہ جائے کہیں آئنہ مرا
سب روشنی کے راز سموئے ہیں شوق سے
شعروں میں پڑھ سکو تو پڑھو مدعا مرا
کرتا ہوں یاد عالم لاہوت اس لیے
لینا ہے امتحان خدا نے کڑا مرا
لہروں سے چھیڑ چھاڑ مرا ذاتی فعل تھا
دریا کے ساتھ بنتا نہیں ہے گلہ مرا
میں روح کے جہان کی کرتا ہوں طیر سیر
افسانۂ وجود ہے سب سے جدا مرا
کس دیس کا ہوں کونسی دنیا سے آیا ہوں
کھلتا نہیں کسی پہ یہاں زائچہ مرا
اس میں رضاؔ کی چشم تمنا کا ہے خمار
ہمت ہے آپ میں تو بجھاؤ دیا مرا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.