Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کچھ اس لئے شکستہ ہوا حوصلہ مرا

محمد مستحسن جامی

کچھ اس لئے شکستہ ہوا حوصلہ مرا

محمد مستحسن جامی

MORE BYمحمد مستحسن جامی

    کچھ اس لئے شکستہ ہوا حوصلہ مرا

    دیکھا نہیں ہے اس نے بھی دست دعا مرا

    ہر عہد میں بہاروں پہ جانیں لٹائی ہیں

    پژمردہ موسموں سے تعلق ہی کیا مرا

    اس کے سوا کوئی بھی مرا ہم سخن نہیں

    ناراض ہو نہ جائے کہیں آئنہ مرا

    سب روشنی کے راز سموئے ہیں شوق سے

    شعروں میں پڑھ سکو تو پڑھو مدعا مرا

    کرتا ہوں یاد عالم لاہوت اس لیے

    لینا ہے امتحان خدا نے کڑا مرا

    لہروں سے چھیڑ چھاڑ مرا ذاتی فعل تھا

    دریا کے ساتھ بنتا نہیں ہے گلہ مرا

    میں روح کے جہان کی کرتا ہوں طیر سیر

    افسانۂ وجود ہے سب سے جدا مرا

    کس دیس کا ہوں کونسی دنیا سے آیا ہوں

    کھلتا نہیں کسی پہ یہاں زائچہ مرا

    اس میں رضاؔ کی چشم تمنا کا ہے خمار

    ہمت ہے آپ میں تو بجھاؤ دیا مرا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے