Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کیسی کیسی صورتیں اے دل دکھاتا ہے مجھے

شمیم حنفی

کیسی کیسی صورتیں اے دل دکھاتا ہے مجھے

شمیم حنفی

MORE BYشمیم حنفی

    کیسی کیسی صورتیں اے دل دکھاتا ہے مجھے

    کس لیے آخر تو آئینہ بناتا ہے مجھے

    میرا دکھ سینے میں فصل دور رس کی آندھیاں

    اور تو احساس کے بستر پہ لاتا ہے مجھے

    خون کی بارش ہوئی لفظوں کے دریا بہہ گئے

    ہر گھڑی تو ایک ہی قصہ سناتا ہے مجھے

    ڈوبتے سورج کا ہر منظر مری آنکھوں میں ہے

    کیسا پاگل ہے اندھیروں سے ڈراتا ہے مجھے

    سچ کہا تو نے کہ پیاسی ریت کا صحرا ہوں میں

    ایک پتھر میں سمٹ جانا بھی آتا ہے مجھے

    میں چراغ راہ ہوں لیکن فقط اپنے لیے

    کیا بگڑتا ہے ترا تو کیوں بجھاتا ہے مجھے

    کون سی منزل پہ لائی ہے مجھے اپنی ہوس

    کیا سمجھ کر میری آنکھوں سے گراتا ہے مجھے

    عرصہ ظلمات میں یہ روشنی بھی کم نہیں

    کس نشے میں چور ہے تو کیوں گنواتا ہے مجھے

    بے کراں ہونے کی خواہش اور یہ اندھی گلی

    کیا برا تھا میں کہ مٹی میں چھپاتا ہے مجھے

    وہ اچٹتی سی نظر بس ایک پل کی بات تھی

    اب وہی لمحہ ہواؤں میں اڑاتا ہے مجھے

    سادگی میری کہ تجھ کو رشتۂ جاں کہہ دیا

    حوصلہ تیرا کہ اکثر بھول جاتا ہے مجھے

    ان جزیروں کو خبر کر دے جو آگے آئیں گے

    پانیوں کی طرح یہ دریا بہاتا ہے مجھے

    پھر فصیل شہر تک جا کر پلٹ آؤں گا میں

    پھر وہی جنگل کا سناٹا بلاتا ہے مجھے

    اس ردائے نیل کے پیچھے نہ جانے کون ہے

    تھپکیاں دے دے کے راتوں کو سلاتا ہے مجھے

    کینوس پر اور کچھ بے نام تصویریں بھی ہیں

    نقطہ نقطہ کون ہے جو یوں مٹاتا ہے مجھے

    خاک اندر خاک میری عمر بھر کی جستجو

    دائرہ در دائرہ کوئی گھماتا ہے مجھے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے