کیسی کیسی صورتیں اے دل دکھاتا ہے مجھے
کیسی کیسی صورتیں اے دل دکھاتا ہے مجھے
کس لیے آخر تو آئینہ بناتا ہے مجھے
میرا دکھ سینے میں فصل دور رس کی آندھیاں
اور تو احساس کے بستر پہ لاتا ہے مجھے
خون کی بارش ہوئی لفظوں کے دریا بہہ گئے
ہر گھڑی تو ایک ہی قصہ سناتا ہے مجھے
ڈوبتے سورج کا ہر منظر مری آنکھوں میں ہے
کیسا پاگل ہے اندھیروں سے ڈراتا ہے مجھے
سچ کہا تو نے کہ پیاسی ریت کا صحرا ہوں میں
ایک پتھر میں سمٹ جانا بھی آتا ہے مجھے
میں چراغ راہ ہوں لیکن فقط اپنے لیے
کیا بگڑتا ہے ترا تو کیوں بجھاتا ہے مجھے
کون سی منزل پہ لائی ہے مجھے اپنی ہوس
کیا سمجھ کر میری آنکھوں سے گراتا ہے مجھے
عرصہ ظلمات میں یہ روشنی بھی کم نہیں
کس نشے میں چور ہے تو کیوں گنواتا ہے مجھے
بے کراں ہونے کی خواہش اور یہ اندھی گلی
کیا برا تھا میں کہ مٹی میں چھپاتا ہے مجھے
وہ اچٹتی سی نظر بس ایک پل کی بات تھی
اب وہی لمحہ ہواؤں میں اڑاتا ہے مجھے
سادگی میری کہ تجھ کو رشتۂ جاں کہہ دیا
حوصلہ تیرا کہ اکثر بھول جاتا ہے مجھے
ان جزیروں کو خبر کر دے جو آگے آئیں گے
پانیوں کی طرح یہ دریا بہاتا ہے مجھے
پھر فصیل شہر تک جا کر پلٹ آؤں گا میں
پھر وہی جنگل کا سناٹا بلاتا ہے مجھے
اس ردائے نیل کے پیچھے نہ جانے کون ہے
تھپکیاں دے دے کے راتوں کو سلاتا ہے مجھے
کینوس پر اور کچھ بے نام تصویریں بھی ہیں
نقطہ نقطہ کون ہے جو یوں مٹاتا ہے مجھے
خاک اندر خاک میری عمر بھر کی جستجو
دائرہ در دائرہ کوئی گھماتا ہے مجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.