عشق اک شیوۂ بے ضرر ہے
عشق اک شیوۂ بے ضرر ہے
اس کے با وصف پر صد خطر ہے
تجھ کو جو خاک ہے مجھ کو زر ہے
آدمی آدمی کی نظر ہے
برق سیال تابندگی ہا
دخت رز ہے کہ یہ دخت زر ہے
غور سے سن کہ روح الامیں کی
میرا ہر شعر آواز پر ہے
اے شب ہجر اتنا بتا دے
کچھ یہاں انتظام سحر ہے
کر چکا ہوں میں ترک محبت
بس تری مہربانی کا ڈر ہے
مجھ سیہ بخت کی خاک اے دل
سرمۂ چشم شمس و قمر ہے
کیا عدم ایک آزادیٔ دید
کیا وجود ایک قید نظر ہے
ہوں رہین رسوم و روایات
آہ اے زندگی تو کدھر ہے
اس نظر کی کرے کون تشریح
جو نظر در نظر در نظر ہے
گفتگو آبشار ترنم
ایک موج تبسم نظر ہے
شہر غم کے مضافات ہیں یہ
بس کہیں پاس ہی میرا گھر ہے
طفل معصوم کی اک نظر سی
میری عرض وفا مختصر ہے
دور آفاق میں عشق کی ذات
مقتدر ہے میاں مقتدر ہے
ہاں سنبھل کر پیو بادۂ شعر
ایک پگھلا ہوا نیشتر ہے
میرے نغموں نے بوسے دیئے ہیں
حسن آفاق اب معتبر ہے
میرے ہر شعر کی یہ گھنی چھاؤں
ساحل بحر غم کا شجر ہے
دے نظر کی اسیروں کو توفیق
جس کو دیوار سمجھے ہیں در ہے
دور رس ہے کمند تبسم
یوں تو وہ اپنے مرکز ہی پر ہے
اک اترتا ہوا خواب سیمیں
چاند سے چاندنی کا سفر ہے
ہے یہ میرا ہی طور و سلیقہ
کتنا کمیاب غم کا ہنر ہے
دور سے جس کو میں سن رہا ہوں
ساز کا نغمۂ منتظر ہے
سات رنگوں کی نازک پھواریں
رقص قوس قزح ہر نظر ہے
بزم احباب لے مجھ سے رخصت
سانس میری چراغ سحر ہے
اے فراقؔ اپنی قدر آپ کر لوں
نا شناسوں کی بستی میں گھر ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.